)۲١۴٢۴ 0۳3۰1 م3] ٥8٥2ص. (۲٥٢۴۱۳٣ ۵[(
باابیھاالز من ا منواکنتب لیک الصیام ا سن خی 5]- 2 ون20 اے ابیمان دالو !تم پر روزے فر ک رنج گن یں
(183 کہ تم سے پیل لوگوں پر فرش کے گے تے کہ پہ ہی گار بن جا “(سور البقرہپادہ 2یت
نو تج :الصیام ”نوم مکی جع سے جھے (ھار یز بان یش روز سے تی کیا جاتاہے۔
وی اورش رقی میتی :صوم ”نروزو مالغ وی می ےکی سے رک جاناکسی چچ کو الیل تر کفکردینا
؛اصطااح ش ریعت میں صوم ”نوز و“ کی ہیں۔ مکل فآ یکاعباد تکانیت سے من صادقی سے لیر خرو بآ ا بک ککھانے نے
اور جماع سے ای ےآ پکوحقیق ہا سآ از رکھنا کنب صلیکم الصیام تم یپ روزے فرح کرد یئے گے ہیں“ ۔امام علائللد بن علیہ ال ر حم“
کھت ہی ںکہ روزے نجرت کے ڈ یڑ“ سال بعد بعداز جو بل قبلہ وس مشعہان ا مع مکوفر ہو عبادات ٹیس کول تر بین عبات
مز شی اس لے سب سے بے نمازف رخ ضکیگئی۔ پچھ راس ے مکل یز زکووفرض ہوئی پچ راس کے بعدروزے فرش ہو ئے
۔چ کہ روز ایک بت مکل خعبارت تھی ببتنوں برقت گراں شی اس لئ اللد تقالی نے حوصلہ بڑھاتے ہو نے مایا مک کنب می
“الین معن -.- اکرروزے تم سے پیل لوگوں پر فرط تے۔
اے موم و!| اگرچي عپارت گل ے مین رنہ مہہ ص۱ ف تمبی اس عاات کے مکلف کے گے ہو۔ صر ف سھمیں جیا کا پابند
کیاکیاہے۔اڑی بات نیس تم سے پھلہ ہلت ی بھی اتی ہومگزری ہیں جنپوں نے یھ ”الہ “ماااورمہرے یو کی ند تپ ایمان لائے
و یکپ یہ عیادت فرح ری ہے۔ لزا مبھی اے بنو شی قو لکرلو۔ ساب ہآ سا یکناوں میں روز ےکا کسی ن کسی شتل میں
ضرور موجودہے فذریت ش ریف یں روزودارو کی ری فک گی ہے۔اسی طرح ایل کے ملف نمخوں میس روز ہکوعباد تق راردیا
نے
7
فضال ر مان:حظضرت الہ رپ ور شی اللد عنہ با نک۷رتے ہی کہ رسول اکم مم نے فرما اجب رماع ش ریف داشل ہوتاے
قڈآسمانوں کے درواز ےکھول دی جات ہیں اور چم کے ددوازے بن درد یئ جاتے ہیں اور شیا می نکو ند یا جانا ہے۔ نی زآپ ہی
سےروایت ےک رسول الد 7ئ ےار شھادفرمایاکہ الد تھالیفر ما زاس :روزہ کے سواای یآ و مکاہر مل ا سکیلے ہواے اورروزہ
میرے لے سے اور یس ہی ا سکی جنزادوںگا۔ “روزوڈھال ہے اورجب تم میس سےکوکی شس روز ودسے ہو ودنہ جما عکی ا
کرے نہ شور وشخ فکرے اگ رکوٹی شس اس ےگا دے یاااس سے اڑے ود کہ د کہ ۶ 7
4 چٹ را ۰
بن کے نے ٹیش می کی ان سے روز ودار کے من کی بد اداد قتالچؤے نزدىیک مفک سے زیادہ شحوب ےر وزودا رکیل دو
خوشیاں ہیں ایک نو گی افطار کے وقت اور الیک خو یا نے رب سے ملا تجات کے وقت وواپنے روز ہکی وجہ سے خوش ہوگا۔( ہار می
(1/ود25
7ے
حضرت کل ر شی اللہ عنہ بیا نکرتے ہی ںکہ رسول اللہ طنڈَِنم نے ار شادفرماباجت شس ایک ددواز ہے جم سکانام باب د یان ے
رت ےکن ود ئن ذ نے تلاح موی گے کے خلا کی و ان وا نے تحاضو کا کان کےا لان
ین زوڑددآز؟ پینرز وو دا کھت ہایس گے اکے اداد رک کی ان وزداڑۓ ۓ دا خحل ینوہ گان سک ےمگمزرجانے کے یور
(254/1 درواز ۓےکو ہن دک دیاجا نگا۔(بخاری
کہ
رت سلیمان فا کی ر شی الد عشہ سے م روگ ےکہ رسول الد لم نے اد شادفرمایا: ”جک گی مسلمان ر مضائن ایارک یش
2
ایک فی جک یکر نے ف ر کان اب لےگااور ایک فر اکر پکگانوارسے سنر فرائن لک ادا نہک یکا ناب لگا مہ صب رکا ہیی ے اور
بر یی تزاقنعۓ ایرپ ابی جم خواری اور ر با پور کیکاے۔اس میں م سک نکارز مڑہاد یا جاناے۔جو اس مہینہ من 2ئ
دارکار وزوافطا کر ایگا نوا ےگناو یش د بے جائیں کے اور جن مکی اک سےآزادکردیاجات ےگااوراسے روزہ جناذاب لگا۔ نیج
“روز ودا رکو پیٹ ھک رکھاا بگااے اللّد تھاکی میرے جو ضکوش سے پلا ےگا جنت مس داخل ہون ےکک بھی پیاسانہ ہوگا۔
یر آپ مم کم ےار شادفرمایا: و۱۶ تجھراڈلہ رحریدواوطہ مففر قوآخر ہ حتن لکن النار :”می الیسا ہین سے جس کاپہلا حشردر حمت
ور میالی حشر مخفرت او رآخر کی تشرہ ٹم سے7 زادیکاے۔“ آپ مم ام نے مزیدار شادفرمایا: تج اس مہیینہ یس اپنے ازم اور
خمادم سےکام میں تھی فکر ہے ےگاازن نے گی یز ای سے کاو زان ےآ زا رر کر
روزوں کے فرح لک رن کی خرض وفایت :ہ رعمل ہر عحنت ومشقت اورہرجد وج کسی خاص مقصد کے حصمو لک یل ےکی جال ے_
مسلمائوں پر مان ش ریف کے روڑے ف رخ کر ن ےکی خر وغایت اور مقصر کو اد تھی نۓ ولک نون > سے و ولفلی جم میں
پان ف راک رگو یادر پا وکوزے میں بن دک دیا۔ یجن لوگو ابیوں نہ جھناکہ در مضمان ریف کے روزے تم یہ ایر ٍ9 29
فرض کے گئے۔ن نی بات نیں ما نکی فر غیت کے چچچ ایک علیم مقص رکا فرمایاہے۔ سنو اا نکی فرضی کی خرض یہ ہے عم
قون.: کہ تم تقو یٰ ویر :یزار بی شی عفت سے موصوف ہو جاؤ. ت مکی دوات سے مالا مال ہو جا فکسما نکھیتوں میں بل چلاتا
ہے۔ پ لو تاہے۔ نت ومشنق تکراہے۔ مقصید یہ ہواے لہ حا صل ہو۔ مقصیدبچھوسہ حا ص لکر نا ہیں دور سے یت د جک ہک خوش
ہوتا ےکہ چلوہم اپنے مقر کے مول کے قریب کچ سے ہیں۔ فصمل اگانے کے بعد یہ را کل کہ سار نصل قیاسال کی نر ہوگئی
اون لو ےکی کے زا ۔ک کہ گےکسمان نے اب مقصی دک پالیا >کمیا انس نے سار می عحنت ومش مشیت بپھو ےکسا عکی شی ؟
ببلوسہ لوا یک فالتو چچڑ شی صل مقصدد ول ہکا تمول تار جب اصل مقصدربی حا صل نہ ہوائو جھو وکہ دو راس ناکم دنا اد دہا-پلا
بی وشال ” ہے ٹون “اکلہ بڑانقابل غمورے مسلمانوں پرروزوفرش کر ےکا مقصدد وحی تق ک کی عفشت سنہ ے اغیں
موصو کر نا تھا بل کیہ می ےکہ تحیقی صلی میس بند دہنانا تھالوا گر مضمان نے مسلما نکیاز ن دکی میس انقلاب برپاکرد ید مضانع کے
آتے ہیں بے نماز کی پکانمانز یم نگیا۔ مج رم مگناہوں ے با زآمگیا نا ہگارجائب ہوک متقوق الہ اور تقو العبادکامحافظط ب نگیا۔ عد ود
اعلامیہ اورادکامات شر عیب ہکاکاپبان م نگیا۔ا کے بات لم و تد یٰے با زآگئ ا کے قرم محصی تکی طر فأُشنے سے رک گے ءا کی
زان مجھوٹ ہو لے :خیب کمرنے مگا لور کے اور ناع نے س ےک گی ہوکئی ران ناعض نے سے بہرے ہو گے ہیں نا نز
07( 2+ .ئ0 کی مد دکیل فا ء اب ققدرم اٹھنا سے فواطانحعت مد اوندکی می ںاُٹھناے ءز بان
مرکت می ںآآکی ے نواس سے مولی بیترت ہیں۔ر مضان شر بی فگزر نے کے بعع ھی روز ددار پر مضما کا ر تک نااب
رہے۔ انی صحب تکا شی جارییار سے سجھ وک اس بن کہم ون نے متتصدرصیا مکوپالیاو رگوابی دوہ وا تی 3 کر نون ہی گی
تے یٰے۔اییے جیا روزے دار کے پارے میں ر سو ل اکم ور سم لم ےار شادفرمایا: ممکنع صامر مضمان ایماناداعتما پا مفرلہ
ام صن ذغبہ :ٹم جس آدی نے ایما نکی عالت ٹیل ر مضمائنع ش ریف کے روزےر ہے اور و دگزاہوں سے پچتار پا کے جج ےکزا ,بش
دی گئے۔(یفار یلین وادر ہے روزہخو و حفبقی مضزل نی بلنہ من لکک کین کا نیقی ذریعہ ہے۔ بیو ںکہہ لیے تقی ای سواری
ہے جو داوج کے مساف رکویقبو زامن لکک اد تی ہے۔ موم نکی منرل جت ہے وہاں یی کے جآ دی تق کی سوا ری یہ
سوا وگیااس کے اور ججت کے در مان چند سانسو ںکی سافت ے۔ای با تک طرفۓ اش ار :کرت ہو ال تا یکاترآنوں
کپڑڑے ہووت لمشقین “اوہ تولی نے وس و عرلی جنت انل وگو ںکسلئے ای ے جو تقد کی صفت سے موصوف ہوں گے۔یا
یو ںکہہ می اج لوک تک کی سوار یہ سواہ ھک رئیں کے جمنت کے درا نی کے ل ےکھلبیں کے اور جمت کے میتی وارث بی لوگ
ون گ۔
ححضرت کل بین سحدر شی الد نہ را وی ہی ںکہ در سول کر م ملق نے اد شادفرمایا: فی لن تما اہ داب متعا باب ٢ی ال ان لا
ید خحلہ الا لصا ون ”جمت کے آ سج در وازوں میں سے ایک در وازوالیاے جے د یا نکہاجاتاے اس میں سے صرفروزودارتی
ران تی ما
پت چلا جو گر مضمان شر ای فکاادب واتترا مکرتے ہیں عم خداون کی کےک کے سر لیم خ مکرتے ہو ئے صیام وق ماع اداکرتے
ہیں کھ تخون““ کے امیر اف اپیام کے مطا رق الد تال انیس نک کی سندعطاکر کے جن تکاوارث یناد بے
لن بی گی یادر ےک دوزو رک کے باوجوددروزددارالند کی نافربانی سے بازنہآیااس کے دست و ہا عم وتحعد یکی طرف ہڑ ھے اور
محصی تکی طر ف این سے نہ کے ءز بان پہ مجموٹ اور خیب تکادوردود ود ہا نمازو لک ادا مگ یکا تام نکیا یکا کیا لین رمضان
گ۰زرتے بی مسچر ۔کوالودا غکہدد پا نما زم رخصت ہو کی فو جان لو دکمہ بی روز ٥فقطا نا مکا ہو اکا ماش بواءالیمار وز دای ازدہ تل 7
طح نے سے سوایۓ پوس کے پیے حا صل نہ ہو ححظرت الاہر یر ور شی الفد نہ فر مات ہیں کہ ر ول اکم لہ ےار کا
فرمایا: م نگم پر قول الزور والتل پہ فکمیس ددداماچدانیربعامہ وشر یہن گن وت کا تھھوٹ إولڑااور
( ہا لکا مکر زان پچوڑاالشد تع یکو اس کے بھ وکا پیاسمار ہن ےک یکوگی ضرورت نیس “( ہار ی
ضروری انبا ہمسی مسلمان مکل فکاعباد تکاضیت سے فتہاۓ سے فتہاۓ خرو بآ قا بکک قصداکھانے پینے اور جماغ سے باز
77709 0/07 ال ا ال رر
حی جج یکھانے نے میس بسرتہ ہو ہا ں ک ککہ اگردوز ودار بح رب یکھا پیر ہاتھاکنہ انچاۓ حر ک ےآ خ رک جا تآ پیج لہ من میں کہ
تم صاد نک ابنقراہوجاۓے اگرچہ اتی الیک دوسیینڑد یگزرے ول لاز مہ ےکہ دومنہ والا لق باہرپکال دے ورندروزوشروںع
ہدنے سے پیل بی ٹوٹ جا ےگا۔ خیال ر ےکہ عدریث پاک می جو حح رب یکھانے نے یس اتی رکا مد یاگیاہے اس سے ان اتے للع
صادثی سے پل کی مار مرارے۔اىی ظر افطار کی می جلدکیٰک"ر نے ےکاجو تد یاکیااے اس سے مر اد گیب سے کہ جب سورح
خمروب ہونے میں سو قد مجن ہو جا اس کے بعد افطار یمیس جلدب یکر وشن لوگوں نے تحموصآر وزوافطار یا کے بارے جلد گی
افطارکرن ےکی فضیلت والی حدریث یاد رکیاے اورافطار یٹ اتی جلد کی مچادیے ہی ںکہ سور نعل خروب دی یی ہو کہ دن بچھم
کی محت یہ پالی بر دن ہیں۔عا لامکیہ روز کے وقت ابتقراءاور وقت اخام کے بارے یل واج عم موجود ےار شاد در اوندی ے
:کلواواشر نوا تی مین کم لیا یش من الا الاسود مین ال م 2 تموالصیام ا ٰا 9ھ خمودار ہونے سے پیل
تک حر یکھانے میں تا خی کر نادرست ہے لان مہ چائز فا سکہ من صادقی)کاکوئی خفیف تحص ح رب یکھانے میس اس ہو چائۓے
۔ ول پور وزدا:نڈرا جی میں فاسد ہو جا گا۔اسی طر مر دز ہتب پواراہوتاے جب د نکا نی اخظام ہو رنارشپ 0 ا تن
سلملہ میں مسلمان چھائیوں ہز رگوں سے درد مندرانہ ایل ےک جہاں تم افطار یمیس جللد یکر نکی غضبیلت والی حدریث یاد ررکھت ہو
وہاں و عید والی حری ث بھی ضرور یا رکھوماکہ ”وخ رالاموراو سٹھا““ کہ ہرکام یں در میانہ ین کپترسے “برح لکا لین ہو ے۔
حریتث فیلات : لن ای دانود یٹس طرت الو ہر یر ور شی الد عنر سے روایت ےکہ رسول الد یہ ےار شادفرمایا: تن بدین
“ پییشہ خالاب ر ےگاج ب کک لوگ افطار بی جل کیک تے ر ہیں گے_
عریث عی: جائن شاان اور جابن یہہ میس حضرت الد امام بااگ یر شی الل عضہ سے روایت ےک حضمور یم فرماۓ
ہیں :مضہ میں سور پاتھاد وش(ف رش انمالی شکل یں )حا رہہوۓ میہرے بازو بل کم ایک پپہاڑ کے پاس نے گے اور مھ سے ہا یہار
پر چنڑ حے یں ن ےکہاپہاڑ مکل ے میں نی چندھ کا ءا نہوں ن ےکہا مآسا نکر دیت ہیں بہ رحال میس پہاڑ پر چقڑ ھگیا۔ بجر ےآ کے
نے نے میس نے ایک لوم 7۶ 7ء لے وا انی تچ کی جار ی یں جن سے شون ب ہر ہاے
_ تضور یل خر مات ہیں یں نے و بچھام ہکون لوگ کیں ؟ا ہو نے جو اب دیارہ وو لوگ یں جو(افطارىی یس جلد یکیاکرتے جے
اور)وقت سے پبیله روز وافطا رکرد یکرت تے۔
غی رضروری تاج رکرنے وانے لوگ جچوستارے خوب رشن ہو جانے پر وزہافطا کرت ہیں انیل حدبیث اول 20
چان اور جو لوگ افطار کی یل ا تخی جلد یکرت ہی ںکہ خر ود بآ فاب میں صصرف تک ہواے مین غئیس ہوا فطا رر د نے ہیں
ا جن فوخ حدیتث دوم یہ گاور ١ جچایئے۔بللہ سب سے مبتریہ ےکہ دونوں حدیث پہ شل ہو ویو ںکہ جب خرو بآ قب
نس نیا کے فم را فا کر ےکن خی کت
رویزے کے متتحلق چنرضروربی مسائل :کھانے نے ہم بسمتزیکرنے سے روز وٹوٹ اتاہے۔ بش ریہ روزہہو زایاد ہو خحواب میں
احّلام ہو چاۓ وروزہ من لغ ان یش دواڈا لے سے روزوٹوٹ جاے۔ اخی رقصر کے تے وہ اکچ ہز یاددروزونہ نو ےگا
ہالیتہ انب چ ےکر منہ پھ رت ےکی توروزوٹوٹ جا ےگا الع مکی تے سے روزونہ ٹون ےگا ۔ککھی علق میں پل یکئی پکہ علق سےاتر
گئ ور ون ہٹوفا۔ ان 20 میں ممپگی پھر اپنےاراددے نگل کیانوروزوٹوٹ جا نگا۔ رات کواحلام ہوا بائیڑئی سے جم بس زیکی
رو ش نہ ملانای حالت میں وضوو ٹیر ہکر کے روزو رک نے إعدازاں کل 90سيئصھج] 1 ہت کیار وز دلو ہو جا ۓگا
الب شی رب اور نمازیس تر کک رن انا ہکیب رو ضر ور لاز مآ گا دورال روز و عور تک وتجی سآگ اور وزو اتا پا انس کے لے
مس جب س ےک بقیہ دلن افطارتک بلٹھن ہکھاۓے بیئے۔ اگ رکھاناپیائی ہو جن پک کھاپی نے۔ ایام تین کے روزو ںکی فقضالازم ہے۔
البنۃ نماز سس محاف ہیں فقطو ارد اتعالٰ| عم ور سول الا ارم صلی علیہ دالہ وا حا و ج--
۱ ۱